Thursday, Apr 25th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

عبداللہ کی خوشی

یہ تیس دسمبر 2012 کا ایک روشن دن تھا جس میں فہد بھائی کے بیٹے اور انکل حاجی عبدالجبار کے پوتے عبداللہ کی دوسری سالگرہ ریسٹورنٹ تاج محل تورپنا تارہ (روم) میں بہت دھوم دھام سے منائی گئی۔ فہد بھائی کی والدہ شمیم باجی نے کافی فیملیز کو دعوت دی تھی۔ ہال کو بہت خوبصورت سجایا گیاتھا اور عبداللہ ماشااللہ بہت خوبصورت نظر آرہاتھا۔ مہمانوں کو دن بارہ بجے کا ٹائم دیا گیا تھا اور سب نے ہی ٹائم کی پابندی کی۔ سب لوگ خوش دلی سے تقریب میں شریک ہوئے۔ جہاں خواتین اور لڑکیوں کے رنگبرنگے اور دیدہ زیب لباس نظر آئے وہیں چھوٹی بچیوں نے بھی خوبصورت لباس زیب تن کئے تھے۔ایک سے بڑھ کر ایک کا منظر تھا۔ خواتین اور مردوں نے اپنے میز پہلے ہی سنبھال لئے تھے۔ تاج محل ریسٹورنٹ کا کھانا بہت لذیذ تھا۔ چکن روسٹ،بریانی ،حلیم اور نان کے ساتھ کولڈڈرنکز کا اہتمام تھا۔کھانے کے بعد عبداللہ نے اپنے والد،والدہ ،دادا اور دادی کے ساتھ مل کر کیک کاٹا۔اسکے بعد سالگرہ پر لائے گئے تحائف کھولے گئے۔آخر میں چائے کا بھی اہتمام تھا۔شام ڈھلے یہ پررونق تقریب ختم ہوئی۔

نگہت شفیق ،روم

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

کوٹھی میں ڈاکہ مارنے پر 2 پاکستانی گرفتار

روم۔ 2 جنوری 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے شمال میں کارپی شہر میں کوٹھی میں ڈاکہ مارنے پر 2 پاکستانی گرفتارکر لیے گئے ہیں ۔ ان کی عمر 17 سال اور 20 سال ہے ۔ ان 2 جوان پاکستانیوں نے ایک اٹالین کے ساتھ ملکر ایک کوٹھی میں رات کو ڈاکہ مارا۔ اس کوٹھی میں ضعیف میاں بیوی آباد ہیں اور ڈاکو بھی اسی چھوٹے سے شہر میں آباد ہیں ۔ ڈاکے کے بعد جب یہ جوان چلے گئے تو انکا ایک شناختی کارڈ زمین پر گرگیا ۔ پولیس نے تفتیش کے دوران یہ کارڈ حاصل کرلیا اور ان تینوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔ ان جوان ڈاکوؤں نے بتایا کہ وہ نئے سال کا تہوار منانے کے لیے ڈاکہ مارنے گئے تھے کیونکہ انکی خواہش تھی کہ وہ اس فنگشن کا خوب مزہ اٹھائیں  ۔ ان تمام پر پولیس نے پرچہ کردیا ہے ۔ ضعیف خاندان نے بتایا کہ ڈاکوؤں نے منہ پر کپڑا باندھا ہوا تھا اور انکے پاس پستول تھا ، انہوں نے ہم سے رقم وصول کرنے کے لیے کہا تھا ۔ پولیس نے جب پستول دریافت کیا تو پتا چلا کہ یہ نقلی پستول ہے ۔ یاد رہے کہ کارپی میں پاکستانی کمونٹی کی تعداد ہزاروں میں موجود ہے جبکہ یہ چھوٹا سا شہر ہے ۔ تصویر میں پولیس کوٹھی میں داخل ہو رہی ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹلی کے سمندر کی تہہ میں پاکستانی جھنڈا لہرانے کا اعزاز

روم۔ یکم جنوری 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے شہرروم میں آباد قمرالزمان نے اٹلی کی سمندر کے تہہ میں پاکستانی جھنڈا لہرانے کا اعزازکرلیا ہے ۔ قمرالزمان کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور وہ روم میں 14 سال سے آباد ہیں ۔ انہوں نے آزاد کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میرے 4 بچے ہیں ، جن میں تین یہاں پیدا ہوئے ہیں اور ایک پاکستان میں پیدا ہوا ہے ۔ قمرالزمان نے کہا کہ مجھے سکوبا ڈائی کا شوق ہے ، جسے اٹالین میں subacqueiکہتے ہیں ۔ میں نے اس سلسلے میں ایک سکول سے باقاعدہ کورس کیا ہے اور کئی بار سمندر کی تہہ میں جانے کا اعزاز حاصل کرچکا ہوں ۔ قمرالزمان یقین دلاتے ہیں کہ ہم سب پاکستان سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے گریز نہیں کرتے کہ پاکستان نے ہم کو کیا دیا ہے لیکن ہمیں یہ سوال بھی کرنا چاہئے کہ ہم نے پاکستان کو کیا دیا ہے ۔ ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ کسی بھی عمل سے چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ، کچھ نہ کچھ ادا کرے، کوئی اپنے سرمائے کے زریعے ، کوئی اپنی کوالٹی کے زریعے اور کوئی اپنے ٹیلنٹ کے زریعے پاکستان کی خدمت کرسکتا ہے  ۔ میں آخری بار روم کے اوستیا کے سمندر میں 75 فٹ کی گہرائی تک پاکستان کا پرچم  لیکر گیا ہوں ۔ قمرالزمان نے کہا کہ میں اٹلی میں پاکستان کا کلچر متعارف کروانے  اور اسکی پہچان کروانے کے لیے مثبت کاروائی کرنے کا خواہشمند ہوں اور معقول زرائع کا انتظار کررہا ہوں ۔ میں مستقبل میں پاکستان کے پرچم کو 100 فٹ کی تہہ تک لیجانے کا منصوبہ بنا رہا ہوں ۔ پرچم کو گہرائی تک لیجانے کے لیے میں اٹالین ٹیم کا بھی شکرگزار ہوں ۔ قمرالزمان نے دعوہ کیا میں پہلا پاکستانی ہوں جس کو اٹلی کے سمندر کی تہہ میں پاکستانی جھنڈا لہرانے کا اعزازحاصل ہوا ہے ۔ ہر پاکستانی اگر پاکستان کے لیے کوئی بھی مثبت قدم اٹھائے تو اس عمل سے ہم اپنے وطن کا نام روشن کرسکتے ہیں ۔ قمرالزمان سے رابطہ کرنے کے لیے انکا موبائل درج کرلیں ۔ 3290410481

 

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 04 جنوری 2013 13:01

دس سالوں میں اٹلی میں 35 لاکھ غیر ملکی داخل ہوئے ہیں

روم۔ 29 دسمبر 2012 ۔۔۔۔ اٹلی کے مردم شماری کے ادارے استات کے مطابق 2002 سے لیکر 2011 تک دس سالوں میں اٹلی میں 35 لاکھ غیر ملکی داخل ہوئے ہیں۔ صرف رومانیہ ملک سے 10 لاکھ غیر ملکی اٹلی میں رہائش پذیر ہوئے ہیں ۔ اسکے بعد انہیں دس سالوں میں 1 لاکھ 75 ہزار غیر ملکیوں نے اٹلی چھوڑ دیا ہے اور اسکے بعد 2 لاکھ 81 ہزار غیر ملکی لاپتہ ہوگئے ہیں یا پھر انہوں نے اپنا ریذیڈنس کٹوادیا ہے ۔ یہ وہ غیر ملکی ہیں ، جن کا ورک پرمٹ یا پرمیسو دی سوجورنو ختم ہوگئی ہے ۔ 2007 تک اٹلی میں داخل ہونے والے غیر ملکیوں کی تعداد بڑھتی ہوئی نظر آتی تھی لیکن 2007 کے بعد اس تعداد میں کمی واقع ہونی شروع ہو گئی تھی ۔ 2011 میں 3 لاکھ 86 ہزار غیر ملکی اٹلی میں رجسٹریشن کرواچکے ہیں اور اسی سال میں 82 ہزار غیرملکیوں نے اپنی رجسٹریشن کینسل کروادی ہے ۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں اس سال میں 3 لاکھ 4 ہزار غیر ملکی اٹلی میں رجسٹرڈ کئے گئے ہیں ۔ غیر ملکی جو کہ اٹلی چھوڑ جاتے ہیں ، اکثر انکی عمر 34 سال ہوتی ہے اور ان میں 53 فیصد مرد شامل ہوتے ہیں ۔ وہ غیر ملکی جو کہ اٹلی میں داخل ہوتے ہیں انکی عمر عام طور پر 31 سال کے لگ بھگ ہوتی ہے اور ان کی اکثریت عورتوں پر مبنی ہوتی ہے  ۔ ان غیر ملکیوں کی 43 فیصد تعداد کا تعلق رومانیہ، مراکش، چین اور یوکرائن سے ہوتا ہے ۔ اٹلی چھوڑنے والے غیر ملکیوں میں رومانیہ کے غیر ملکی سرفہرست ہیں اور اسکے بعد چینی اور البانیہ کے غیر ملکی شامل ہیں ۔ 2011 میں اٹلی کے اندرونی شہروں اور قصبوں میں 13 لاکھ 58 ہزار غیر ملکیوں نے نقل مکانی کی ہے یا اندرونی ہجرت کی ہے ۔ 2010 کے مقابلے میں 13 ہزار غیر ملکی زیادہ دوسرے شہروں میں شفٹ ہوئے ہیں ۔ غیر ملکی اٹالین کی نسبت زیادہ اندرونی نقل مکانی کرتے ہیں ۔ ہر ایک ہزار غیر ملکیوں کے بعد 51 غیر ملکی اندرونی نقل مکانی کرتے ہیں جبکہ اٹالین صرف ہر ایک ہزار بعد صرف 21 اندرونی نقل مکانی کرتے ہیں ۔ سب سے زیادہ غیر ملکی جو کہ اندرونی نقل مکانی کرتے ہیں ان میں رومانیہ کے غیر ملکی شامل ہیں ، اسکے بعد چینی غیر ملکی شامل ہیں جو کہ اٹلی کے اندرون میں نقل مکانی کرتے ہیں

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

شمالی افریقہ سے فرار ہونے والے غیر ملکیوں کے مسائل حل کیے جائیں

روم۔ 27 دسمبمر 2012 ۔۔۔۔ برلسکونی کی سابقہ حکومت نے شمالی افریقہ سے فرار ہونے والے غیر ملکیوں کے مسائل حل کیے بغیر انہیں نظر انداز کردیا تھا اور اب موجودہ حکومت بھی انکے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کر رہی ۔ موجودہ وزیر داخلہ کنچلیری بھی اس مسئلے کو آگے ڈالتے ہوئے وقت گزار رہی ہیں ۔ ضروری ہے کہ ان سیاسی پناہ گزینوں کے لیے ایک پائیدار پروگرام بنایا جائے ، ان کی اکثریت لیبیا کی جنگ سے فرار ہو کر اٹلی میں داخل ہوئی ہے ۔ امریکہ کے مشہور اخبار نیو یارک ٹائم نے بھی اٹلی میں سیاسی پناہ گزینوں کی موجودہ حالت پر ایک آرٹیکل شائع کیا ہے ۔ اٹلی کی مشہور سیاسی پناہ گزینوں کی ایسوسی ایشنیں ARCI, ASGI, Casa dei diritti sociali, Centro Astalli, CIR, FCEI, Senza Confineجو کہ حکومت کے سیاسی پناہ کے پروگرام میں شریک ہیں ، انہوں نے کہا ہے کہ اٹلی کی حکومت مختلف علاقوں میں سیاسی پناہ گزینوں کو روانہ کرتے ہوئے مسائل میں مزید اضافہ کر رہی ہے ۔ اقوام متحدہ کی سیاسی پناہ گزینوں کی تنظیم Unhcrنے فروری کے مہینے میں شمالی افریقہ کے غیر ملکیوں کی خستہ حالت دیکھ کر ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا لیکن تمام ایموجنسیوں کے باوجود موجودہ حکومت نے نومبر کے مہینے میں ان غیر ملکیوں کو انسانی ہمدردی کی سوجورنو دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شمالی افریقہ کے مسئلے کے لیے ایک تنظیم ENAبنائی گئی ہے ، جس نے تمام مواقع ضائع کر دیے ہیں اور کافی زرائع غیر ضروری طور پر خرچ کردیے ہیں ۔ یہ تنظیم اٹلی کے معاشی بحران کے دور میں غیر ملکیوں کے خلاف نسل پرستی جیسے مواقع مہیا کر سکتی ہے ۔ سیاسی پناہ کے مسئلے میں شریک ایسوسی ایشنوں نے کئی بار حکومت سے میٹنگ کرنے کے لیے خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن حکومت نے انکی خواہش کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے ۔ یاد رہے کہ شروع میں شمالی افریقہ سے آنے والے بیشتر غیر ملکیوں کی درخواستیں مسترد کردی گئیں تھیں اور بعد میں کافی وقت گزر جانے کے بعد انہیں انسانی ہمدردی کی سوجورنو دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا ، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ان تمام غیر ملکیوں کی درخواستوں پر دوبارہ نظر ثانی کی جائے ۔ یہ غیر ملکی بغیر کسی مدد کے اٹلی میں موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ENAکو سیاسی پناہ کی تمام تر مشین سونپنے سے مسائل اتنے بڑہ جائیں گے کہ انہیں حل کرنا مشکل ہو گا ۔ ENAکیوجہ سے سیاسی پناہ اور امیگریشن کی تمام تر مشین رک سکتی ہے کیونکہ حکومت تمام زرائع انکے لیے خرچ کر رہی ہے ۔ تمام ایسوسی ایشنوں نے کہا کہ ENAکے متعلق تمام غیر ملکیوں کو انسانی ہمدردی کی سوجورنو جاری کی جائے ، چاہے یہ لوگ ENAکے سائے میں ہیں یا پھر شمالی افریقہ سے آئے ہوئے ہیں اور انہیں ENAکی پروٹیکشن نہیں دی گئی ۔ یاد رہے کہ ENAسے متعلق تمام غیر ملکیوں کو 31 دسمبر کا الٹی میٹم دیا گیا ہے ۔ اٹلی میں دسمبر کے مہینے کے بعد کافی سردی ہوتی ہے ، یہ غیر ملکی اتنی سردی میں کہاں جائیں گے ، اس لیے ایسوسی ایشنوں نے اپیل کی ہے کہ ان غیر ملکیوں کو 30 مارچ تک شیلٹر مہیا کیا جائے ۔ اگر ان ہزاروں غیر ملکیوں کو اٹلی میں بغیر کام اور بغیر گھر چھوڑ دیا گیا تو اس سے کافی سوشل مسائل پیدا ہو جائیں گے کیونکہ سردی سے بچنے کے لیے ہزاروں غیر ملکیوں کے لیے کوئی ایسا انتظام نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ ضروری ہے کہ ان سیاسی پناہ گزینوں کو سنٹروں کی طرف سے تمام اہم معلومات فراہم کی جائیں ، جو کہ انکے مستقبل کے لیے ضروری ہیں ۔ ضروری ہے کہ ENAکے غیر ملکیوں کو سنٹروں کی بجائے دوسری قسم کی رہائشوں میں منتقل کیا جائے ۔ مثال کے طور پر جو غیر ملکی کمزور ہیں یا پھر فیملی والے ہیں ، انہیں ہوٹلوں میں منتقل کیا جائے ، جیسا کہ ماضی میں غیر ملکیوں کے لیے کیا گیا تھا ۔ یاد رہے کہ سردیوں میں اٹلی کے ساحلوں کے ہوٹل خالی ہوتے ہیں اور انہیں گرمیوں میں دوبارہ کھولا جاتا ہے ۔ ضروری ہے کہ ENAسے منسلک غیر ملکیوں کے لیے جو زرائع باقی رہ گئے ہیں ، انہیں انکی سوشل انٹیگریشن کے لیے خرچ کیا جائے ، یعنی انہیں کام دلوایا جائے اور اٹالین سوسائٹی میں شامل کیا جائے ۔ ایسے خاندانوں کے مکان دیا جائے جو کہ بچوں کے ساتھ آئے ہیں کیونکہ قانون sensi dell'art. 8 del D.Lgs 140/05کے تحت ان کا حق بھی بنتا ہے ۔ وہ غیر ملکی جو کہ اپنے ملک واپس جانا چاہتے ہیں ، انکے سفر وغیرہ کے لیے انتظام کیا جائے اور پروگرام SPRARکے زرائع انکے لیے خرچ کیے جائیں ۔ یاد رہے کہ شمالی افریقہ کے ان غیر ملکیوں کی تعداد 20 ہزار کے قریب ہے اور ان میں پاکستانی بھی موجود ہیں ۔ یہ پاکستانی بخوشی لیبیا میں کئی سالوں سے کام کر رہے تھے اور جنگ کیوجہ سے انہیں فرار ہونا پڑا ہے ۔ کافی پاکستانی ہنرمند ہیں اور اٹلی میں انکے ہنر کو کوئی اہمیت نہیں دی جا رہی ۔

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com