Thursday, Apr 25th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

بشارت اور اسکی اٹالین بیوی کی تلاش جاری ہے

19 جنوری 2015 ۔۔۔۔ پاکستانی محمد بشارت اور اسکی اٹالین بیوی دوریتا کی تلاش جاری ہے ۔ دوریتا کا تعلق ناپولی شہر سے ہے اور 6 سال قبل اسکی ملاقات محمد بشارت سے ہوئی تھی ۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے اور ایک دن انہوں نے کمونے یا میونسپل کمیٹی میں جا کر شادی کر لی ۔ دوریتا کے والدین اس شادی پر راضی نہیں تھے ۔ محمد بشارت ناپولی میں سڑک پر ایک غیر قانونی اسٹال لگاتے ہوئے گزارا کرتا تھا ۔ اٹالین اخبارات کے مطابق محمد بشارت مذہبی انسان تھا لیکن عسکریت پسند نہیں تھا۔ دوریتا اسکے ساتھ چند سال پہلے پاکستان گئی تھی اور وہاں 2 ماہ رہی تھی ۔ اب یہ دونوں گزشتہ  سال پاکستان کے شہر لاہور گئے تھے جو کہ بشارت کا شہر بھی ہے ۔ انکے ایک چھوٹا سا بیٹا بھی تھا جو انکے ساتھ پاکستان گیا تھا ۔ جون 2013 میں دوریتا پاکستان گئی تھی اور اسکے بعد وہاں کافی عرصہ کے بعد اس نے اپنے والدین کو فون کیا تھا کہ اسکی جان خطرے میں ہے اور روتے روتے اس نے واپس آنے کی خواہش ظاہر کی تھی ۔ والدین نے پریشانی کی حالت میں 15 سو یورو خرچ کرتے ہوئے تین ٹکٹیں خرید کر روانہ کر دی تھیں ۔ انہوں نے کویت ائر کے زریعے وایا کویت روم کے فیومی چینو ائر پورٹ پر آنا تھا ۔ جب یہ فلائٹ روم پہنچی تو پتا چلا کہ دوریتا اور محمد بشارت نے اس فلائٹ پر سفر کیا ہے اور بچہ انکے ساتھ نہیں تھا ۔ اس کے علاوہ یہ لوگ کویت سٹی میں پہنچنے کے بعد دوبارہ اٹلی کے لیے روانہ نہیں ہوئے ۔ ان تمام شک و شبہات کے بعد دوریتا کے اٹالین والدین جو کہ ناپولی میں قدیمی سامان بیچنے کی دکان کے مالک ہیں ، انہوں نے پولیس کو پرچہ کروا دیاہے اور اسکے علاوہ انہوں اٹلی کی وزارت خارجہ کے دفتر میں بھی اپنی بیٹی اور اسکے بچے اور داماد محمد بشارت کی تلاش کے لیے بھی درخواست دیدی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ انکے کاغذات پر کسی دوسرے خاندان نے سفر کیا ہے جو کہ غیر قانونی طور پر کسی منزل کی تلاش میں ہے یا پھر انہیں اغوا کر لیا گیا ہے ۔ اگر آپ اس خاندان کے بارے میں کچھ جانتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں ۔ تحریر اعجاز احعد

موبائل ۔ 00393476937016

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

دہشت گردی کے الزام میں اٹلی سے ایک پاکستانی ملک بدر

روم۔ 18 جنوری 2015۔۔۔ آج اٹلی کے وزیر داخلہ الفانو نے ایک پریس کانفرنس کے زریعے اعلان کیا ہے کہ ہمارے ملک سے 50 سے زیادہ جنگجو داعش کے گروہ میں شامل ہو کر شام میں جنگ لڑ رہے ہیں اور اب ہم نے اٹلی کے مختلف شہروں میں ریڈ کرتے ہوئے مزید 9 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے اور انہیں تیونس، مراکش، شام اور پاکستان روانہ کر دیا ہے ۔ ان ملزمان میں ایک پاکستانی بھی شامل ہے ۔ اس پاکستانی کا نام نہیں بتایا گیا لیکن کہا گیا ہے کہ یہ لوگ اٹلی میں جہاد یا عسکریت پسندی کا پرچار کر رہے تھے ۔ اٹلی میں پہلی بار کسی پاکستانی کو دہشت گردی کے جرم میں ملک بدر کیا گیا ہے ۔ اس سے قبل 11 ستمبر کے امریکہ کے واقع کے بعد 50 سے زائد پاکستانیوں کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن وہ جیل میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد آزاد کر دیے گئے تھے اور انہیں ملک بدر نہیں کیا گیا تھا ۔ آزاد اخبار نے ان سالوں میں ان تمام پاکستانیوں کی خبریں اور انٹرویو شائع کیے تھے ۔ تحریر، اعجاز احمد

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پیرس حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں ۔ اعجاز احمد

روم۔ 8 جنوری 15، تمام اہل وطن سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ پیرس میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے کی سختی سے مذمت کریں۔ 7 جنوری بروز بدہ تین دہشت گرد ایک اخبار کے دفتر میں داخل ہوئے اور انہوں نے صحافیوں سمیت 12 افراد کو قتل کردیا۔ حملہ آور اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے رہے اور کلاشنکوفوں سے خون بہاتے رہے ۔ ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم یہ ظاہر کریں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں اور یورپ کی صحافی آزادی کی پاسداری کرتے ہیں ۔ اگر کوئی ہمارے مذہب کے خلاف لکھتا ہے تو ہم اسکے اخبار کا بائیکاٹ کرسکتے ہیں لیکن کسی بھی صحافی کو دہمکی یا قتل کرنے کے خلاف ہیں ۔ ہم یورپین قوانین کا احترام کرتے ہیں اور یورپ کی اقدار اور رسومات کے متضاد نہیں ہیں کیونکہ ہم نے یہاں آباد ہونے کا فیصلہ کر رکھا ہے ۔ ہمارے مذہب کا مطلب امن اور سلامتی ہے ۔ تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ جلسے اور جلوس نکال کر یہ ظاہر کریں کہ وہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کی مذمت کرتے ہیں اور یورپین شہری ہونے کے ناطے ہر قسم کی تنگ نظری کے خلاف ہیں ۔ اعجاز احمد نے کہا کہ انہوں نے کل فرانس ایمبیسی کے سامنے جا کرانکے احتجاج میں حصہ لیا اور حملے کی مذمت کی ۔ تحریر، شیر علی

                                                                   

                                                                                                                 

۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم ایمبیسی کی ٹیم 3 اور 4 جنوری کو پراتو کا دورہ کرے گی

روم۔ 31 دسمبر 2014 ۔۔۔۔ رپورٹ ، اعجاز احمد ۔۔۔۔ خواتین و حضرات روم ایمبیسی کی ٹیم 3 اور 4 جنوری2015 کو پراتو کا دورہ کرے گی ۔ 3 اور 4 جنوری  یعنی بروز ہفتہ اور اتوار وزٹ کے لیے ایمبیسی کی قونصلر سیکشن کی ٹیم Hotel President, Via Arrigo Simintendi 20 Prato  میں تمام دستاویزات کی وصولی اور ادائیگی کرے گی ۔ ہفتہ کے روز صبح 8 بجے سے لیکر شام 5 بجے تک کام کیا جائے گا ، اس دوران دوپہر 1 بجے سے لیکر 2 بجے تک وقفہ کیا جائے گا ۔ اتوار کے روز صبح 8 بجے سے لیکر دوپہر 12 بجے تک کام کیا جائے گا ۔ وزٹ کے دوران کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ کی درخواست دہندگان کو حوالگی، نوزائیدہ بچوں کے ہاتھ سے لکھے گئے پاسپورٹ، نادرا سے موصول شناختی کارڈز کی درخواست دہندگان کو حوالگی، نادرا کارڈز کے لیے درخواستیں اور اسکے علاوہ تمام اعتراضات اور غلطیوں کے لیے بھی خدمات انجام دی جائيں گی ۔ تمام اہل وطن سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مطلوبہ کاغذات اپنے ساتھ لیکر آئيں۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

شہیدان پشاور کی یاد میں روم میں جلوس کا اہتمام

روم، 28 دسمبر 2014 ۔۔۔۔۔ آج شام اٹلی کے شہر روم کے مشہور سکوائر میں شہیدان پشاور کی یاد میں جلوس کا اہتمام کیا گیا ، اس میں سو سے زیادہ پاکستانی اور اٹالین موجود تھے ۔ پاکستان فیڈریشن کے صدر چوہدری بشیر امرے والا، پاکستان کرسچن ایسوسی ایشن کے صدر سرور بھٹی، ارسلان شاہ، اعجاز احمد اور دوسرے معزز پاکستانیوں کی کوشش سے اس جلوس کو عملی جامہ پہنایا گیا ۔ تقاریر کے زریعے دہشت گردی کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ان بچوں کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا اور ہم پوری دنیا کو بتا دیں گے کہ ہم پاکستان کو ایک جمہوری اور امن پسند ملک بنانے کا خواب دیکھتے ہیں ۔ تحریک طالبان نے ہمارے بچوں کو قتل نہیں کیا بلکہ ہمارے مستقبل کو للکارا ہے ۔ تقاریر کے بعد شمعیں روشن کی گئیں اور اسکے بعد دعائے مغفرت پڑھی گئی ۔ کرسچن برادری نے اردو میں بچوں کی یاد میں دعا مانگی اور اسکے بعد اٹالین خاتون کرستینا نے اٹالین میں بچوں کے لیے دعا کی ۔ جلوس کی فلم دیکھنے کے لیے

یہاں کلک کریں

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 30 دسمبر 2014 22:18