Tuesday, Mar 19th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

رات کے ستارے کا کیا اعتبار لکھوں

 

              رات کے ستارے کا کیا اعتبار لکھوں

              نیند میں بہاروں کے قصے بےشمار لکھوں

            خواہش کوئی بھی تیرے بعد نہ ہوگی جاناں

           حیراں نہ ہونا گر تمہیں اپنا پیار لکھوں

           جان کے وہ بے خبر جانے کیا سمجھ بیٹھے

          جسکو باتوں باتوں میں اپنا دشمن جان لکھوں

        خوشیوں کی تمنا میں غم ادھار لے بیٹھے

       بدلتے موسموں کا اکثر خود کو ذمہ دار لکھوں

       زمانے نے سب ہی ہنر سکھا دئیے ہمیں نگہت

      آنسو چھپا کے اپنے خیریت کا احوال لکھوں

       نگہت شفیق،روم

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹلی میں زندگی کٹھن ہے

روم۔ 29 اکتوبر 2012 ۔۔۔ اٹلی کے جنوبی علاقے میں آباد محمد احسان اٹالین زبان میں اپنے مسائل کے بارے میں ایک لوکل اسلامک ٹیوی میں اپنے انٹرویو دیتے ہوئے ، اس انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ اٹلی میں زندگی سخت ہے ، میں ایک دکاندار ہوں اور اٹلی کی معیشت کو ترقی دینے کے لیے کام کررہاہوں لیکن جب میں اپنا ورک پرمٹ یا پرمیسو دی سوجورنو رینیو کروانے کے لیے تھانے جاتا ہوں تو وہ مجھ سے امتیازی سلوک کرتے ہیں اور اگر کوئی غیر ملکی چاہے وہ جرائم پیشہ ہو لیکن تھانے میں اسکی واقفیت ہو تو اسکے کاغذات فوری طور پر سفارش کی بنا پر رینیو ہوجاتے ہیں ،۔ میں اس ملک میں کئی سالوں سے کام کررہا ہوں لیکن میری یہاں کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ کبھی کبھار میرا دل چاہتا ہے کہ میں سب کچھ بیچ کر پاکستان چلا جاؤں لیکن وہاں بھی سیکورٹی کا مسئلہ ہے ، آئے دن بم چلتے ہیں اور بدامنی ہے ۔ ایک غیر ملکی کے لیے ایسی حالت انتہائی پریشان کن ہے ، جہاں نہ تو وہ اپنے ملک واپس جا سکتا ہے اور نہ ہی اٹلی میں خوش رہ سکتا ہے ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اے کاتب تقدیر

آسٹریلیا میں ایک پشتو گلوکار سیگل کی  غزل پیش کر رہے ہیں ، جس کا نام اے کاتب تقدیر ہے ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

میری ماں کو مت بتانا

فیکٹری میں کام کرنے والے ان پاکستانیوں کی ویڈیو دیکھ کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ میں جذباتی ہوگیا ۔ ویڈیو میں ان تمام جوانوں نے اپنا کام شو کیا ہے اور ساتھ ہی ایک گانے کے زریعے اپنی ماں کو یہ پیغام روانہ کیا ہے ۔ ماں تم پریشان نہ ہونا تمہارا بیٹا بڑی کٹھن زندگی گزار رہا ہے ۔ میں ان تمام جوانوں کو مبارک دیتا ہوں کہ انہوں نے اپنے سخت کام کی ویڈیو دکھائی ہے ۔ یہ جوان سادہ مزدور نہیں بلکہ ہماری قوم کے ہیرو ہیں ، جو اپنے خون پسینے کی کمائی سے اپنی ماں اور گھر والوں کا پیٹ پالتے  ہیں ۔ اگر میرے بس میں ہوتا میں انہیں انکی اس فلم پر ایوارڈ دیتا ۔ انکی اس فلم سے کئی لوگوں کو سبق سیکھنا چاہئے ۔ مثال کو طور پر ہمارے وہ کمونٹی کے لیڈر جو بعض اوقات انسانی اسمگلنگ کرنے کے بعد انسانیت کا سبق دیتے ہیں ۔ ہمارے وہ سیاست دان جو کہ بڑے نعرے لگاتے ہیں اور حرام کماتے ہوئے اپنی کوٹھیاں بناتے ہیں اور عیاشی کرتے ہیں ، وہ جاگیردار جو سانپ کی طرح ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ کرتے ہوئے غریب کسانوں کا لہو چوستے ہیں ، ہمارے وہ بڑے مولوی اور خان وڈیرے جو کہ بڑی جیپوں پر بیٹھ کر نیک نیتی کا پیغام دیتے ہیں ، ہمارے وہ سرکاری افسران جو کہ رشوت کے انبار لگانے کے بعد حج کی طرف راغب ہوتے ہیں ، ہمارے وہ سیاسی لیڈر جو سویٹزرلینڈ کے بنکوں میں سرکاری سرمایہ جامد کرتے ہیں ، ہمارے وہ کرنل جرنل جو ملازمت کے دوران کروڑوں روپے کمانے کے بعد پنشن کے دوران بھی اعلی اداروں کے حاکم بن جاتے ہیں ۔ ہاں ، ان تمام افراد کو شرم کرنی چاہئے لیکن تم جوانوں کو شرم نہیں بلکہ فخر کرنا چاہئے ، تم خون پسینے کی کمائی کماتے ہو اور کسی کا حق نہیں کھاتے ۔ میں تمام پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان جوانوں کی ویڈیو  فلم دیکھیں اور دوسروں کو بھی روانہ کریں ۔ اگر آپ کسی ہیرو کو نہیں جانتے تو اب آپ اس فلم کے زریعے جان سکتے ہیں ۔ یہ فلم 2009 میں بنائی گئی تھی لیکن اس کی قدر ہمیشہ زندہ رہے گی ۔ تحریر، اعجاز احمد

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 25 اکتوبر 2012 21:32

میلان کے قریب گلاراتے کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ماہئے گاتے ہوئے

میلان۔ اٹلی کے شہر میلان کے قریب گلاراتے قصبہ ہے ، جہاں پاکستانی کمونٹی کی کافی تعداد  آباد ہے، وہاں پاکستانی گراؤنڈ میں میچ کھیلنے کے بعد گرمی کے موسم میں درخت کے نیچے بیٹھ کر ماہئے گا رہے ہیں اور ساتھ ہی ڈھولک کی آواز اور نعرے لگاتے ہوئے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com