Sunday, Jan 20th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

روم میں یوم ادب پاکستان کا انعقاد

روم۔ 9 اکتوبر۔۔۔ آج شام روم کارپوریشن کے ایک خوبصورت ہال میں یوم ادب پاکستان کا انعقاد کیا گیا ۔ تقریب کا آغاز ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ کی تقریر سے کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم روم کارپوریشن کے شکر گزار ہیں ، جنہوں نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا کہ ہم پاکستان کے ادب کا پرچار کرسکیں۔ آج ہم اس ہال میں چند پاکستانی مصنفوں کی کتابوں کو پیش کرنے جا رہے ہیں ، جن کا ترجمہ حال ہی میں اٹالین زبان میں کیا گیا ہے ۔ آج ہم پاکستان کے مشہور لکھاری مظہر الاسلام کی کتاب کی رونمائی کریں گے اور اسکے بعد اس رائٹر کی کتاب پیش کریں گے جو کہ ایک المناک حادثے میں ہلاک ہوگئيں تھیں لیکن انکی شاعری اور نظمیں آج بھی پورے پاکستان میں مشہور ہیں ۔ ان کا نام پروین شاکر ہے ۔ اسکے بعد سعادت حسن منٹو کی کتاب کو پیش کیا جائے گا ، جس کا ترجمہ فرانکو اسپوزیتو پبلشر نے کیا ہے ، جبکہ مظہر الاسلام اور پروین شاکر کی کتابوں کا ترجمہ ڈاکٹر سبرینا لئی کے ترجمے کے ادارے جئے سے عمل میں آیا ہے ۔ سفارت کارہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ مقررین میں ڈاکٹر ویتو سلیئرنو بھی شامل ہیں جو کہ اردو زبان اور پاکستانی ادب کو متعارف کروانے کے لیے اٹلی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔ منٹو کی کتاب اور اردو زبان کے بارے میں اعجاز احمد بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گے ۔ ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ کی تقریر کے بعد محفل کا آغاز ہوا اور پروفیسر ویتو نے اردو ادب کے بارے میں تاریخی دلائل پیش کرتے ہوئے یورپ اور اردو کا رشتہ قائم کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر علامہ اقبال روم میں 1931 میں آئے تھے اور انہوں نے ایک ادبی کانفرنس میں حصہ لیا تھا ۔ اسی طرح کئی دوسری مثالیں پیش کرتے ہوئے انہوں نے اردو اور پاکستانی ادب کی خصوصیات پر روشنی ڈالی ۔ تین اٹالین ایکٹروں نے منٹو کی کتاب کے چند صفحات اٹالین زبان میں پیش کرتے ہوئے حاضرین میں گرم جوشی پیدا کردی ۔ اعجاز احمد نے منٹو کی کتاب کا ایک صفحہ اردو زبaltان میں پڑہ کر اٹالین اور دوسرے غیر ملکی مہمانان گرامی کو پڑہ کر سنایا تا کہ وہ اس زبان کی بولتی ہوئی خصوصیات سے لطف اندوز ہوسکیں ۔  ہال میں ایک طرف کتابوں کی رونمائی کی گئی تھی اور ملک اختر نے ساؤنڈ سسٹم کے زریعے پاکستانی میوزک اور گیت پیش کرتے ہوئے ایک خوبصورت ماحول قائم کردیا تھا ۔ ڈاکٹر سبرینا لئی نے اپنی تقریر میں مظہر الاسلام کی کتاب کے بارے میں بحث کی اور دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف پاکستان اکیڈمی کے صدر ہیں بلکہ لوک ورثہ اور کہانیاں لکھنے میں کمال پیدا کرتے ہیں اور ہم انہیں پاکستان کا سب سے بڑا ادیب کہہ سکتے ہیں ۔ محفل کا آغاز شام 6 بجے کے قریب ہوا اور اختتام رات 8 بجے کے بعد ہوا ۔ ہال میں 70 لوگوں کی گنجائش تھی لیکن وہاں 80 سے زائد مہمانان گرامی موجود تھے ۔ ہال میں چند پاکستانیوں کے علاوہ اٹالین ، عرب اور امریکن طالب علم نظر آرہے تھے ۔ ہال میں اسلام آباد میں موجود اٹالین ایمبیسی کے سفارتکار پراتی بھی موجود تھے اور لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ ادبی محفل کے آغاز سے جو لب لباب نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ اٹلی میں چند روشن خیال اٹالین اور ہماری ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ پاکستانی ادب کو اٹلی میں متعارف کروانے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور لگتا ہے کہ اب ہمارےادیب ، مصنف، شاعر اور آرٹسٹ اٹلی میں بھی اپنے فن کا کمال دکھائیں گے ۔  تحریر، ریما نعیم

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹالین زبان میں جدید اردو ادب

تحریر، ویتو سالی ایرنو ۔پہلی قسط ۔۔۔       اٹالین زبان میں جدید اردو ادب کا رشتہ اسکی مقدار کی بجائے اسکی اعلی قدر  پر مبنی ہے اور اس کا تعلق اسلامک ادب سے منسلک ہے ۔ اٹلی میں اسلامی ادب کے تراجم کے لیے کافی کام عمل میں آچکا ہے اور یہ خاص طور پر عربی، فارسی اور ترکی زبان سے اٹالین میں زبان میں منتقل ہوئے ہیں ۔ اردو زبان سے بھی ترجمے کیے گئے ہیں لیکن اردو زبان کے ادیب کئی دفع ایک سے زیادہ زبان میں لکھتے ہیں ، اس لیے انکے شاہکاروں کا ترجمہ کسی دوسری زبان سے کیا جا چکا ہے ۔ شاید اٹلی میں اردو زبان کے ترجمان کی بھی کمی رہی ہے ۔ اس اقباس کے بعد آئيے ہم ایسے اردو ادب کے بارے میں بیان کریں جو کہ شاعری اور نثر کی صورت میں اٹالین زبان میں شائع کیا جا چکا ہے اور یہ ادب اعلی اور معیاری قدر کا حامل ہے ۔ ان شاہکاروں میں شاعری کے حلقوں کا نام سر فہرست ہے شاعری میں سب سے پہلے علامہ اقبال کا نام آتا ہے ۔ علامہ اقبال اٹلی میں بھی مشہور ہیں کیونکہ وہ 27 نومبر 1931 میں اٹلی کے شہر روم میں Accademia d’Italiaیعنی اٹالین اکیڈمی میں ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے تشریف لائے تھے ۔ اس موقع پر انکے چند شاہکاروں کا ترجمہ اٹالین زبان میں کیا گیا تھا ۔ 1931 میں روم یونیورسٹی سے ایک ہندوستانی مسلمان ریاض الحسن نے اٹالین ادب میں ایم اے کیا تھا اور انہوں نے علامہ اقبال کی شاعری کا ترجمہ کیا تھا ۔ اسکے بعد علامہ اقبال پاکستان کے قومی شاعر قرار دیے گئے تھے ، اس لیے ان کے سب سے اعلی شاہکار جاوید نامہ کا ترجمہ اٹالین پروفیسر Alessandro Bausaniیعنی آلیساندرو باؤزانی نے کیا تھا ۔ یاد رہے کہ علامہ اقبال نے جاوید نامہ فارسی زبان میں شائع کیا تھا ۔ جاوید نامہ کا ترجمہ 1952 میں کیا گیا تھا اور یہ صرف چند افراد کے لیے عمل میں آیا تھا جو کہ مشرقی ثقافت سے منسلک تھے ، چونکہ جاوید نامہ فلسفہ پر مبنی شاعری کا مجموعہ تھا ، اس لیے اس کا ترجمہ عوام کے لیے بھی باری شہر سے 1965 میں کیا گیا لیکن آج اس کا ترجمہ مارکیٹ میں موجود نہیں ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اب لاہور کی اقبال اکیڈمی کے تعاون سے جاوید نامہ  کا ترجمہ دوبارہ اٹالین زبان میں کیا جائے گا ۔ باؤ زانی کی جوان عمر میں موت کے باعث میں نے فیصلہ کیا کہ میں اقبال کے تمام اردو کے شاعری کے شاہکاروں کا ترجمہ کروں گا ۔ اسی مقصد کے لیے میں نے اقبال کی بانگ درہ  بال جریل کا ترجمہ کیا جو کہ 2010 اور 2012 میں اٹالین زبان میں شائع کی گئی ہیں اور ضرب کلیم اگلے سال شائع کی جا رہی ہے ۔ اقبال کی ایک کتاب اسلامو میں مذہبی سوچ تعمیر کا ترجمہ روم سے سبرینا لئی نے کیا ہے ۔ یاد رہے کہ اقبال اردو، فارسی اور انگریزی میں لکھتے تھے ، اس لیے انہیں بین الاقومی شاعر اور فلاسفر قرار دیا جاتا ہے ۔ 19 ویں صدی کے شروع میں جب قومیت پرستی پروان پر تھی ، دو عظیم جنگیں عمل میں آچکی تھیں اور انسانی اقدار نفرت کی آگ میں جھونکی جا رہی تھیں ، اس موقع پر علامہ اقبال نے قوموں کو جھگانے کے لیے ایک نظم شائع کی تھی ، اس وقت انکی نظم کے مطلب سے چند نقطہ نظر کے لوگ ناراض بھی ہوئے تھے لیکن انہوں نے یہ نظم انسانیت کو جگانے کے لیے لکھی تھی ۔ اس کا نام نیا شیوالہ ہے ۔ ہم اسے اٹالین میں پیش کرتے ہیں

Un nuovo altare

                                                            (Naya Shivala)

                            Ti dirò il vero, o brahmano, se non ti adombri

                            Gli idoli del tuo tempio stanno invecchiando.

                            L’odio verso gli amici dagli idoli hai appreso,

                            Al predicatore il dio l’arte del litigio ha insegnato,

                            Stanco, ho al fine lasciato il tempio e la moschea,

                            Ho lasciato il sermone del predicatore e le tue storie.

                            Tu pensavi che c’era un Dio negli idoli di pietra,

                            Per me ogni singolo granello della mia patria è Dio.

تصویر میں پروفیسر ویتو alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

چلو چلو روم چلو

روم۔ 2 اکتوبر 2012 ۔۔۔ روم کارپوریشن کے ہال میں 9 اکتوبر کے روز شام ساڑھے 5 بجے اردو ادب کے سلسلے میں ایک کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے ۔ تمام اہل وطن کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس محفل میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اسکی رونق کو دوبالا کریں ۔ مظہرالاسلام، سعادت حسن منٹو اور پروین شاکر کی کتابوں کو پیش کرتے ہوئے اردو ادب کی شان کو متعارف کروایا جائے گا ۔ محفل میں سفارتکارہ تہمینہ جنجوعہ مہمان خصوصی ہونگی اور اٹالین ادب کے پروفیسر، سیاست دان اور دانشور شرکت کریں گے ۔ یاد رہے کہ مظہرالاسلام، سعادت حسن منٹو کی کتابوں کا اٹالین میں ترجمہ کیا جا چکا ہے اور ان کتابوں کو پیش کرنے کے لیے اٹالین پبلشر موجود ہونگے ۔ آپ اس پروگرام کو نوٹ کرلیں ۔

La Giornata della Letteratura Urdu

Nel segno del rispetto per la diversità, della tolleranza e della mutua comprensione

(Sala del Carroccio, Campidoglio, 9 ottobre 2012; 17.30-20.30 PM)

 

L’evento sarà moderato dal Prof. Piero Vereni del Dipartimento degli Studi di Impresa Governo Filosofia dell’Università di Roma Tor Vergata.

 

PARTE ISTITUZIONALE

  • Presentazione di Prof. Piero Vereni
  • Saluti di benvenuto del promotore dell’evento on. Frabrizio Panecaldo, consigliere del Comune di Roma                                                                                                                                      (5 min.)
  • Discorso di apertura di H.E. Tehmina Janjua, Ambasciatore del Pakistan             (5 min.)
  • Intervento di Mazhar ul Islam, direttore della Pakistan Book Foundation sullo stato della letteratura urdu in Pakistan                                                                                                                            (15 min.)
  • Intervento di Maria Concetta Cassata del Ministero dei Beni Culturali in rappresentanza Centro del Libro                                                                                                                                       (15 min.)

 

PARTE LETTERARIA

  • Introduzione generale del Prof. Piero Vereni                                                                  (10 min.)
  • Saadat Hasan Manto, introduzione di Ejaz Ahmed che parlerà anche della diffusione dell’urdu in Italia                                                                                                                                          (10 min.)
  • “Il cane di Titwal” di Saadat Hasan Manto,mise en parole della compagnia teatrale di Gabriele Linari                                                                                                                                (20 min.)
  • Franco Esposito, un breve commento al racconto intitolato “L’ultimo saluto” di Saadat Hasan Manto                                                                                                                                                (5 min.)
  • Introduzione all’opera di Parveen Shakir e Mazhar ul Islam di Sabrina Lei          (25 min.)
  • Mazhar ul Islam parla del suo libro, La stagione dell’amore, delle mandorle e delle piogge trade, tradotto in italiano per la prima volta                                                                                          (15 min.)            

 

               Totale                   125 min.

 

Prevediamo un evento dalla durata complessiva di circa 160 minuti (con accompagnamento musicale e interpretazione consecutiva.

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

بابر کی خودنوشت کا نیا ترجمہ

 تحریر ، سرفراز بیگ از آریزو۔۔۔ برصغیر ہندوستان مشرق، شمال اور شمال مغرب میں پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے اور باقی حصہ خلیج بنگال اور بحیرہ عرب پر مشتمل ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ریلوے انجن اور دخانی جہاز کے آنے تک ہندوستان دو بین الاقوامی تجارتی راستوں کے درمیان واقع تھا: شمال میں چین سے مغربی ایشیا تک ریشم کی تجارت کا راستہ اور جنوب میں جنوب مشرقی ایشیا سے بحیرہ روم کے ملکوں تک مصالوں کی تجارت کا راستہ۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس سرزمین کا واسطہ جن حملہ آور فاتحین سے پڑا وہ پہلے شمال مغرب کے پہاڑوں سے اور پھر مغرب، مشرق اور جنوب کے ساحلوں سے وہاں پہنچے تھے۔ 1483میں وسط ایشیا کے مقام فرغنہ میں پیدا ہونے والے بابر نے اپنے ازبک دشمنوں سے فرار حاصل کرتے ہوئے پہلے کابل میں اپنی حکمرانی قائم کی اور پھر ہندوستان پر یکے بعد دیگرے پانچ حملے کر کے آخرکار دہلی کی سلطنت کا قبضہ حاصل کیا۔ پچاس برس سے بھی کم عمر میں آگرہ میں وفات پانے سے پہلے بابر نے ہندوستان میں اس سلطنت کی بنیاد رکھی جو رسمی طور پر 1857میں اس سلسلے کے آخری تاجدار بہادر شاہ کی معزولی پر ختم ہوئی۔ اس سلطنت کی کہانی بے حد مسحورکن اور عبرت ناک  ہے  لیکن ہندوستان کے انگریزی ادیب امیتابھ گھوش نے ایک اور اہم حقیقت کی طرف یوں توجہ دلائی ہے: ’تاریخ کے طویل تناظر میں دیکھیں تو مغل دورِحکومت دراصل خوش نصیبی کے ایک نادر وقفے کے سوا  کچھ نہ تھا۔ ایک عظیم الشان فریب نظر جس کا انجام اس کے آغاز سے بھی پہلے متصور کیا جا چکا تھا۔ کیونکہ سچ یہ ہے کہ جس وقت بابر گنگا اور سندھ کے دوآبے میں اپنی عظیم جنگیں لڑ رہا تھا، اس وقت برصغیر کی قسمت کا فیصلہ اس سے بہت کم شدت کی ان لڑائیوں میں ہو رہا تھا جن میں ہندوستان کے مغربی ساحل پر حکران دیسی راجہ حملہ آور پرتگیزیوں سے نبردآزما تھے۔ ... جس وقت بابر دہلی کے تخت پر بیٹھا اس وقت تک پرتگیزی مغربی ساحل پر گوا میں ایک بڑی نوآبادی قائم کر چکے تھے‘۔ امیتابھ گھوش کو یہ بات تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ بابر کی خودنوشت سوانح (’بابرنامہ‘) میں پرتگیزیوں کا ذکر تک نہیں ملتا۔ چونکہ بابر نے اپنی زندگی میں کبھی سمندر نہ دیکھا تھا، اس سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ بحری طاقت کی اہمیت کا اندازہ کر سکتا ہو گا جو جدید ہندوستان کی تقدیر رقم کرنے والی تھی۔ بابر نے اپنی زندگی کے ان واقعات کو،جب جب وقت ملا، اپنے زمانے کی علمی زبان فارسی میں نہیں بلکہ اپنی گھریلو زبان مشرقی ترکی میں تحریر کیا۔  عبدالرحیم خان خاناں نے اس کا فارسی ترجمہ ’واقعات بابری‘ کے عنوان سے کیا۔ اردو میں اس خودنوشت کے دو ترجمے، مرزا نصیرالدین حیدر اور رشید اختر ندوی کے کیے ہوئے، ’تزک بابری‘ کے عنوان سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ انگریزی زبان میں اسے ’بابرنامہ‘ کے عنوان سے سرے کی رہنے والی ’بڑی بی‘ اینیٹ بیورج نے ’اپنے قلعے میں بیٹھ کر خود کو ترکی پڑھاتے ہوئے‘ منتقل کیا اور یہ ترجمہ چار حصوں میں 1912سے 1921تک شائع ہوا۔ ’بابرنامہ‘ کا تازہ ترین انگریزی ترجمہ وِیلرایم تھیکسٹن نے 1993میں کیا جسے رومن ترکی متن اور خان خاناں کے فارسی ترجمے کے ساتھ شائع کیا گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں، حسن بیگ نے زمانہ حال کے ازبکستان، افغانستان، پاکستان اور ہندوستان کا تفصیلی سفر کر کے نہ صرف وہاں کے کتب خانوں، کتب فروشوں، کتاب داروں اور عالموں سے ملاقاتیں کیں بلکہ ہر اس مقام کا دورہ کیا جس کا ذکر بابر کی یادداشتوں میں ملتا ہے اور جہاں جانا ان کے لیے ممکن ہوا۔ اس سفر کا حاصل نہ صرف ان تمام جگہوں پر کھینچی گئی تصویریں ہیں جو کتاب میں موزوں مقامات پر شامل ہیں بلکہ ’بابر کی تلاش میں‘ کے عنوان سے ضمیموں والے حصے میں شائع کیے جانے والے مضامین بھی ہیں۔ شگفتگی کے انداز میں تحریر کیے گئے یہ مضامین بابرکی زندگی اور یادداشتوں سے متعلق بہت سی مفید معلومات تو فراہم کرتے ہی ہیں، اس کے علاوہ ان میں حسن بیگ نے اپنے مشاہدے میں آنے والی چیزوں کے بارے میں بے تکلفی سے تبصرے بھی کیے ہیں۔ مثلاً اورینٹل انسٹی ٹیوٹ، تاشقند، کے بارے میں کہتے ہیں: ’یہاں کے ڈائرکٹر... صاحب لندن پلٹ ہیں لیکن ابھی ان کو اس حقیقت سے آگاہی نہیں کہ کتب خانوں کی عزت و شہرت مخطوطوں کو طالبوں کو دکھانے میں ہے چھپانے میں نہیں‘۔ کابل کے کتب فروشوں کے ضمن میں ان کا کہنا ہے: ’سب سے مشہور دکان شاہ محمد صاحب کی ہے۔ شاہ صاحب کتاب تو بیچتے ہیں لیکن ساتھ کھال بھی کھینچتے ہیں‘۔ ایک اور اختراع حسن بیگ نے یہ کی ہے کہ ان میں سے ہر مضمون کے شروع میں اپنی ایک پورے قد کی تصویر شائع کی ہے جس میں انہوں نے متعلقہ علاقے کا لباس زیب تن کر رکھا ہے۔ وہ خوش وضع اور جامہ زیب آدمی ہیں، اس لیے یہ اختراع پڑھنے والے کو خوشگوار ہی محسوس ہوتی ہے۔ پھرغالباًحسن بیگ بھی، اپنے ممدوح بابر کی طرح، گورگانی ہیں، چنانچہ پڑھنے والا بابر کی شکل و سراپا کو ان پر قیاس کر سکتا ہے۔ تصویر میں سرفراز بیگ

alt

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹلی میں آباد پاکستانی آرٹسٹ کا کمال

روم۔ 19 ستمبر کی شام روم کی ایک خوبصورت آرٹ گیلری میں بر صغیر کے تین آرٹسٹوں کے شاہکاروں کی رونمائی کے لیے ایک مصوری نمائش کا انعقاد کیا گیا ۔ اس میں انڈیا ، بنگلہ دیش اور پاکستان کے مصوروں کی پینٹنگ اور انکے بنائے ہوئے آرٹ کے نمونے پیش کیے گئے ۔ بنگلہ دیش کے رویا چودریا، انڈیا کے اتم کمار کرماکر اور پاکستان کی مصورہ مائمونہ فیروز نانا کا آرٹ قابل تعریف تھا ۔ پاکستان کی سفارتکارہ تہمینہ جنجوعہ نے بھی نمائش کی تقریب میں شرکت کی  ۔ مائیمونہ اٹلی میں 40 سال کے عرصہ سے آباد ہیں اور میلانو میں رہائش پزیر ہیں ، انکے خاوند اٹالین ہیں اور پنشن میں جانے سے پہلے وہ اٹلی کے مشہور اکانومسٹ تھے ۔ مائمونہ فیروز نانا کا تعلق کراچی سے ہے ۔ مائیمونہ پارسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں ۔ انہوں نے کراچی، ممبئی اور انگلینڈ سے آرٹ کی تعلیم حاصل کی اور اسکے بعد اٹلی میں رہائش پزیر ہو گئيں ۔ مائیمونہ گند میں پھینکی ہوئی چیزوں کو حاصل کرتے ہوئے ان سے اپنے نمونے تیار کرتی ہیں ۔ یعنی بوتلوں کے ڈھکن، کوکا کولا کے ٹن اور کئی ایسی چیزیں ، جنہیں لوگ پھینک دیتے ہیں ، وہ انہیں تلاش کرتے ہوئے انہیں آرٹ میں تبدیل کردیتی ہیں ۔ مائیمونہ نے بتایا کہ انکے والد جج تھے اور وہ اندرون سندہ کی عدالتوں میں بھی کام کرتے رہے تھے ، ہمیں انکے ساتھ رہنا پڑتا تھا اور اسی طرح میں نے ریگستان کا کلچر سمجھا اور اسے آرٹ میں پیش کیا ۔ مائیمونہ کے چند آرٹ کے نمونے پاکستان کے کلچر کی عکاسی بھی کرتے ہیں ۔ مائیمونہ نے کہا کہ انکی کوشش رہی ہے کہ وہ اٹلی میں پاکستانی کلچر، آرٹ اور میوزک کا پرچار کریں اور اسی سلسلے میں وہ کئی کاوشیں عمل میں لا چکی ہیں ۔ انہوں نے آزاد کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ امبریا کے شہر گوبیو میں آباد ہیں اور اسی گھر میں انہوں نے آرٹ کی ورکشاپ بنا رکھی ہے ۔ مائیمونہ اٹلی میں بھی کافی مقبول ہو چکی ہیں اور اٹالین آرگنائزر Manuela De Leonardisنے کہا کہ انہوں نے مائیمونہ کو تلاش کیا تھا اور وہ انکے آرٹ کے نمونوں سے کافی متعصر ہوئیں تھیں ۔ تصویر میں ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ، مائیمونہ فیروزاور انکے اٹالین خاوند ، ایڈیٹر آزاد اعجاز احمد ۔ باقی 2 تصویروں میں مائیمونہ کا آرٹ

altaltalt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com