Thursday, May 23rd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

کتھک ڈانس کی مشہور اٹالین والنتینا کے خیالات

اگست  2012  ۔۔۔ کتھک ڈانس کی مشہور اٹالین والنتینا ماندوکی نے آزاد کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 5 سال کی عمر میں ڈانس سیکھنا شروع کر دیا تھا ۔ والنتینا نے روم کی یونیورسٹی سے آرٹ میں ایم اے پاس کیا ہے اور انہوں نے تعلیم کا تھیسز بالی ووڈ کے ڈانس پر تیار کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ میری عمر 24 سال ہے اور اب میں مختلف کورسوں کے زریعے بچوں اور جوانوں کو بالی ووڈ کے ناچ کے لیکچر اور پریکٹس کرواتی ہوں ۔ میں روم شہر میں آباد ہوں ۔ مجھے بر صغیر کا کلچر بہت اچھا لگتا ہے اور میں اردو سیکھنے کی کوشش بھی کر رہی ہوں ۔ اٹلی میں کتھک ناچ ابھی تک مقبول نہیں ہوا ، اس کے برعکس انگلینڈ اور دوبئی میں کتھک ڈانس اور بالی ووڈ کے ڈانس کافی مقبول ہو چکے ہیں ۔ یاد رہے کہ کتھک ڈانس نہ صرف آرٹ کے لیے کیا جاتا ہے بلکہ اسکی روحانی اہمیت بھی قابل زکر ہے ۔ کتھک نہ صرف ایک ڈانس بلکہ جسمانی زبان کا بھی نام ہے ۔ کتھک سے ورزش بھی ہوتی ہے اور انسان نفسیاتی طور پر بھی صحت مند رہتا ہے ۔ کتھک اور بالی ووڈ کے لیکچر حاصل کرنے کے لیے آپ مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب میں بھنگڑا ڈانس بھی پیش کرتی ہوں اور میرا گروپ اس ناچ میں بھی کافی مقبول ہو چکا ہے ۔

Valentina Manduchi Tel. 3202930720 e-mail: یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

 

altalt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

Galileo Galilei (15 february 1564---8 january 1642)

 

اٹلی کا مشہور سانئسدان اٹلی کے شہر پیسا میں پیداہوا ۔اس کا باپ اپنے دور کا مشہور موسیقار تھا اور اس کے چھ بہن بھائی تھے لیکن ان میں سے صرف دو وندہ بچے۔ ایک تو باپ کے نقشے قدم پے چلتے ہوئے موسیقار بن گیا لیکن گلیلیو گلیلائی نے سائنسدان بننا پسند کیا۔ اس کا پورا نام تھا گلیلیو دی ونچینسو بوناوتی دی گلیلائی۔ جب اس کی عمر آٹھ سا ل تھی تواس کے خاندان والے فلورنس منتقل ہوگئے۔ اس نے زندگی کے چند سال جاکوبو بورگینی کے ساتھ گزارے اس کے بعد اسے فلورنس سے پینتیس کلومیٹر دور کمالدولی مونیسٹری یا خانقاہ میں بھیج دیا گیا۔ اس دور میں گلیلیو ایک راسخ العقیدہ کیتھولک عیسائی تھا۔ اس کی شادی مرینا گامبا سے ہوئی اور اس کے تین بچے پیدا ہوئے۔ گلیلیو کے باپ کی خواہش تھی کہ وہ پادری بنے لیکن اور ابتدامیں اس کا اپنا بھی یہی خیال تھا لیکن بعدمیں اس نے میڈیکل کی ڈگری کے لیئے پیسا یونیورسٹی میں داخلہ لیا جو اس نے مکمل کیئےبغیر ہی چھوڑ دی، اس کے بعد اس نے ریاضی اور حساب کے مضمون پسند کیئے۔ عجیب و غریب آدمی تھا پادری بنتے بنتے ڈاکٹر بنا، ریاضی دان بنا، لیکن پھر فلورنس کی اکیڈمی میں مصوری کا استاد بھرتی ہوگیا۔ اس کے بعد اسے پیسا یونیورسٹی میں ریاضی کے استاد کی نوکری مل گئی۔ پھر اسے پادووا میں جومیٹری، میکینکس اور ایسٹرونومی پڑھانی کی نوکری مل گئی۔ اس دوران اس نے ایجادات کی طرف غور کرنا شروع کیا اور دوربین بنانےکے نئے نئے تجربات کرنے لگا۔ اس نے جب پہلی دفعہ یہ نظریہ پیش کیا کہ زمین سورج کے گرد چکر لگاتی ہے تو اس دور کے پادریوں نے اس پر فتوا لگادیا اور کتنی عجیب بات ہے کہ اسے ویٹیکن سٹی نے 2008 میں معاف کیا ہے۔ اس نے پیسا ٹاور پے چڑھ کے اسرائی کے قانون پے تحقیق کی اور ثابت کیا کہ رفتار میں تبدیلی وزن کے مطابق ہو تی ہے۔ جب گلیلیو نے اپنی کتاب ال ساجاتورے میں اپنے نئے نظریات پیش کیئے تو ایک پادری جو کہ ریاضی دان بھی تھا اورازیو گراسی نے اس کے خلاف کتاب لکھی اور اس نے گلیلیو کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں گلیلیو اور اس کے ایک دوست ماریو جودوچی نے اپنی نئی کتاب کے دیباچے میں چرچ کے پرانے انداز کے فلسفوں پر تنقید کی جس کی وجہ سے گلیلیو پر فتوا لگایا گیا۔ بائیبل کے کئی ابواب میں زمین کو ایک مستقل رکی ہوئی چیزلکھا گیا ہے جبکہ گلیلیو نے اسے سورج کے گرد گھومتے ہوئے بتایا جس کی وجہ سے چرچ نے اسے اپنا دشمن اور لادین کہنا شروع کردیا۔ گلیلیو نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا لیکن کسی نے اس کی نہ سنی اور اس کو اس دور کے انتہا پسندوں کی طرف سے سزا سنائی گئی جن کو انکویزیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کو ساری زندگی گھر میں نظر بند رہنے کا حکم سنایا گیا کیونکہ اس کا جرم صرف اتنا تھا کہ اس نے ایک نیا نظریہ پیش کیا تھا جو کہ صحیح تھا کہ زمین سورج کے گرد تین سو پیسنٹھ دنوں میں چکر لگاتی ہے اور چاند زمین کے گرد تیس دنوں میں چکر لگاتا ہے۔ جب گلیلیو کو گھر میں نظر بند کیا گیا تو وہ یہی کہتا تھا کہ زمین سورج کے گرد چکر نہیں لگاتی جبکہ وہ بڑی آہستگی سے کہا کرتا چکرتو لگاتی ہے۔ اس کو سزا کے طور پر تین سال کے لیے  بائیبل کے مختلف باب پڑھنا لازمی قرار دے دیے گئے ۔ آخری دنوں میں اس کی نظر جاتی رہی اور ا س کو ساری نیند نہ آیا کرتی ۔اس کو صرف دوا دارو کے لیئے فلورنس جانے کی اجازت تھی حالانکہ اس کو جدید سائنس کا بانی مانا جاتا ہے۔ اس کے خیالات سے متاثر ہو کر کوپرنیکس، کیپلر نے خاطر خواہ ایجادات کیں۔  77 سال کی عمر میں اس جدید سائنس کے بانی نے دنیا سے پردہ فرمایا اور اس دور کے لوگوں نے اس عظیم اور جدید سائنس کے بانی کو چرچ میں دفن کرنے کا سوچالیکن اسے وہاں نہ دفن کیا جاسکا کیونکہ چرچ کے مطابق وہ گناہگار تھا لیکن اسکے مرنے کے سوسال بعد اس کے تابوت کو چرچ میں دفن کیا گیا۔ گلیلیو نے دس کتابیں لکھیں اور آج تک اس کی کتابوں سے لوگ مستفید ہوتے ہیں جن میں البرٹ آئنسٹائن، سٹیفن ہاکنگز جیسے عظیم لوگ شامل ہیں ہیں۔ گلیلیو نے ریاضی اور علمِ فلکیات میں بہت کام کیا جس سے اس دورکے مشہور ماہر فلکیات کارل ساگا نے بہت فائدہ اٹھایا اور اس کے علاوہ آئیسک ایزیموف نے بہت خوبصورت ناول لکھے۔ گلیلیو کے بارے میں داوا سوبل نے بہت اچھی کتابیں لکھی ہیں۔تحریر سرفراز بیگ از آریزو

alt

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

شہنشاہ ِغزل مہدی حسن انتقال کر گئے

14 جون 2012 ۔۔۔ دنیائے غزل کےعظیم ترین گائیکوں میں سے ایک مہدی حسن طویل علالت کے بعد بدھ کو کراچی میں انتقال کر گئے، ان کی عمر 84سال تھی۔مہدی حسن کافی عرصے سے فالج کا شکار تھے اور آغا خان ہسپتال میں داخل تھے۔آغا خان ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب ان کی طبیعت اچانک بگڑنا شروع ہوگئی اور بارہ بج کر پندرہ منٹ پر ان کا انتقال ہوگیا۔چوراسی سالہ مہدی حسن جنھیں شہنشاہ غزل کا خطاب دیا گیا تھا، وہ بھارتی ریاست راجھستان کے ایک گاؤں لونا میں پیدا ہوئے تھے۔وہ پاکستان کے قیام کے بعد راجستھان سے کراچی منتقل ہوگئے تھے جہاں ابتدا میں انہوں نے زندگی کے دشوار ترین دن گزارے، انہوں نے سائیکل پنکچر لگانے کی دکان پر کام کیا جس کے بعد ایک موٹر میکنیک ورکشاپ سے منسلک ہوگئے۔وہ بچپن سے ہی گلوکاری سے آشنا تھے اور اس عرصے میں انہوں نے ریاضت کو جاری رکھا۔ موسیقی کی دنیا میں ان کے سفر کا باقاعدہ آغاز 1952میں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے ہوا اور انہوں نے اپنے کیریئر میں پچیس ہزار سے زیادہ فلمی اور غیر فلمی گیت اور غزلیں گائیں۔1960 اور ستر کی دہائی میں ان کا شمار عوام کے پسندیدہ ترین فلمی گلوکاروں میں ہوتا تھا۔حکومت پاکستان ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ امتیازاور تمغۂ حسنِ کارکردگی سے بھی نواز چکی ہے۔مہدی حسن کی گائیگی بھارت اور پاکستان میں یکساں مقبول ہے اور بھارت کی ممتاز گلوکارہ لتا منگیشکر نے ایک بار مہدی حسن کی گائیگی کو ’بھگوان کی آواز‘ سے منسوب کیا تھا۔بھارتی ریاست راجستھان کی حکومت نے مہدی حسن کو بھارت میں علاج معالجے کی پیشکش بھی کی تھی ۔ مہدی حسن اور ملکہ نور جہاں پاکستان کے سب سے بڑے گلوکار شمار ہوتے ہیں ۔

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

فخر زمان


پاکستان اکیڈمی آف لیٹر کی بنیاد زوالفقار علی بھٹونے رکھی تھی۔ بھٹو نے فرانس کی اکیڈمی فرانسیز کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان میں اس طرح کی اکیڈمی کا آغاز کیا۔ آجکل اس کے ڈائیریکٹر اردو و پنجابی کے درخشندہ ستارے فخر زمان ہیں۔ فخر زمان کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کا تعلق پاکستان بلکہ پنجاب کے مشہور شہر گجرات سے ہے۔ عام طور پے دیارِ غیر میں رہنے والے گجرات شہر کو کئی اور حوالوں سے جانتے ہیں جن کا ذکر کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا۔ گجرات شہر میں روحی کنجاہی اور انور مسعود جیسے مہان استاد لوگ پیدا ہوئے ہیں۔ فخر زمان نے نہ صرف پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی بلکہ انہوں نے ہالینڈسے بھی قانون کی ڈگری حاصل کی۔ فخرزمان نے ادبی زندگی کا آغاز بہت پہلے کیا اور ان کا پہلا شعری مجموعہ اردومیں  زہراب میں منظرِ عام پے آیا۔ اس کے بعد تو کتابوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان کی کتاب ہر سال بازار میں آنے لگی۔ ان کی دوسری ادبی تحریر پنجابی زبان میں ایک ریڈیوں کا ڈرامہ تھا ’’چڑیاں دا چنباں‘‘ جو کہ منظرِ عام پے آیا ۔ اس کے بعد ’’واں ڑ دا بوٹا ‘‘ بھی ریڈیوکا ڈرامہ تھا 1981میں منظرِ عام پے آیا۔ دیگر تصنیفات درج ذیل ہیں۔اس کے علاوہ ان کی بیشمار تحریریں دیگر زبانوں میںآچکی ہیں۔ انہوں نے بینظیر بھٹو اور زوالفقار علی بھٹو کی زندگی پے لکھی جانے والی مختلف دستاویزات اور تحریروں کو بھی اکھٹا کیا جو کہ ایک مشکل اور محنت طلب کام تھا۔حال ہی میں ان کی زیرِ سرپرستی ایک کتاب جاری ہوئی ہے جس میں اردو ادب کے ساٹھ سالہ افسانوں میں سے چنے گئے افسانوں کی کتاب مرتب کی گئی ہے۔ ہر دہائی کے اچھے افسانے چن کر اس کتاب کی زینت بنائے گئے ہیں ۔فخر زمان کی پانچ پنجابی کتابوں پر مارشل لاء دور میں پابندی لگائی گئی ۔ اس پابندی کو لاہور ہائیکورٹ نے اٹھارہ سال بعد ختم کیا۔ ادب کی تاریخ میں کسی بھی مصنف کی پانچ کتابوں پر پابندی لگنا گنیز بکس آف ریکارڈ میں آنا چاہیئے۔ فخرزمان کی کتابیں پنجابی ادب کے ماسٹرز کے نصاب میں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ ان کی ادبی خدمات پر کئی ایک لوگوں نے پی ایچ ڈی بھی کی ہے۔ فخر زمان کی زیرِ سرپرستی تین مجلے بھی نکلتے ہیں ’’وائس‘‘ انگریزی میں ماہوار، ’’بازگشت‘‘ اردو میں ماہوار اور ’’ونگار‘‘ پنجابی میں ہفتہ وار یہ تینوں ماشل لاء دور میں بند کردیئے گئے تھے۔ فخرزمان نہ صرف ادبی خدمات انجام دیتے رہے بلکہ وہ اہم سرکاری عہدوں پر میں کارہائے نمایا ں انجام دیتے رہے ہیں۔ جس میں آپ بیگم نصرت بھٹو کے سیاسی مشیر رہے۔ 1988میں آپ سینٹ کے ممبر رہے۔ پریذیڈنٹ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب۔ دو دفعہ اکیڈمی ادبیات کے چیئرمین بنے جو کہ اب بھی ہیں۔ اس کے علاوہ یونیسکو کے ورلڈ کلچرل ڈیکیڈ کے بھی چیئرمین ہیں  .حکومت پاکستان نے فخرزمان کو آپ کی ادبی خدمات صلے میں کئی اعزازات سے نوازاجن میں حکومت پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز ’’ستارہ ءِ امتیاز ‘‘ آپ کی ادبی خدمات کے سلسلے میں  آپ کو دیا گیا۔ اس کے علاوہ ملینیم ایوارڈ اور 2008میں آپ کو ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔ فخر زمان واحد پاکستانی ادیب ہیں جنھیں ہندوستان کا مشہور اعزاز ملا ’’شرومانی ساہیتک‘‘۔  فخر زمان نے نہ صرف پاکستان میں ادب کی خدمت کی بلکہ انہوں نے غیر ممالک میں ادبی کانفرنسسز کا انعقاد کیا ہے جن میں امریکہ، فرانس، انگلستان، سویڈن، چیکریپبلک،چین،نورتھ کوریا، مصر،انڈیا، ازبکستان،روس، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ڈنمارک، ناروے،ہنگری،اٹلی، آسٹریاء، ہالینڈ، بیلجیئم، فن لینڈ، ایستونیاء، جرمنی، یونان، کازکستان،ترکمانستان اور کرگستان شامل ہیں۔ 

alt
PAKISTAN ACEDEMY OF LETTERS
SECTOR H-8/1ISLAMABAD
PAKISTAN
سرفراز بیگ از اریزو
baigsarfrazhotmail.com

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

سید عبداللہ شاہ

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com